چھوٹے اور بے زمین کسان موسمی بحران کی زد میں

پریس ریلیز| 19 ستمبر 2022

پاکستان کے کل 160 اضلاع میں سے 81 اضلاع موسمی بحران کی وجہ سے آنے والے سیلاب کی زد میں آکر شدید متاثر ہوئے ہیں، جبکہ سندھ میں کئی مہینوں پر مبنی مسلسل بارش اور پھر دریائی سیلابی ریلوں نے 23 اضلاع میں دیہی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور اگر کراچی کے 7 اضلاع کو بھی شامل کرلیں تو پورے سندھ کو اس طوفانی بارش اور سیلاب سے شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان میں کل 8.3 ملین ایکڑ زمین پر فصلیں متاثر ہوئیں جبکہ سندھ کی 3.5 ملین ایکڑ زمین پر فصلیں برباد ہوئیں۔ اس نقصان کی زد میں گوٹھ در گوٹھ ڈوب گئے ہیں۔ اب تک کی خبروں کے مطابق 1,545 افراد کے جانی نقصان کے ساتھ ساتھ شدید مالی نقصان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) سندھ کی 17 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق 678 افراد، 232,593 جانور اور 1,729,584 گھروں کا نقصان ہوا ہے۔ 20 جون سے 30 اگست تک اس سیلاب سے مجموعی طور پر 18,138 جانور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ستمبر کے صرف پہلے 17 دنوں میں 214,455 مزید جانور ختم ہوگئے ہیں۔ باقی اعداد و شمار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سامراجی طرز پیداوار جو کہ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد اور سرمائے کی ہوس پر قائم ہے، فضاء میں کاربن کے مسلسل اور بے تحاشہ اخراج اور عالمی حدت میں اضافے کا ذمہ دار ہے۔ دنیا بھر میں اس اخراج کے نتیجے میں ہونے والے موسمی بحران شدت اختیار کرتے ہوئے پہ درپہ موسمی آفات کے واقعات میں بے تحاشہ اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس وقت ناصرف پاکستان بلکہ بھارت، سوڈان اور اٹلی میں بھی ہنگامی سیلابی صورتحال ہے۔ Continue reading

معاشی بحران سے موسمی بحران تک

اگست 30، 2022 | پریس ریلیز

پاکستان کا شمار پچھلے کئی برسوں سے ان 10 ممالک میں ہوتا ہے جو موسمی بحران کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ یہ موسمی بحران قدرتی نہیں بلکہ سامراجی نظام کا نتیجہ ہے اور جب تک سامراجی تسلط ختم نہیں ہوتا اس میں بہتری ممکن نہیں۔ مگر پچھلے چند سالوں میں جو موسمی بحران کے نتیجے میں تباہی دیکھنے میں آئی ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ جس میں 2007 سے لیکر 2022 تک تقریباً ہر سال آنے والے سیلاب شامل ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی حالیہ شدید بارشوں کی تباہ کاریوں کو اب تک کے اندازے کے مطابق 2010 کے سیلاب، جس میں 2 کروڑ سے زائد افراد متاثر اور 2 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے، سے زیادہ تباہ کن مانا جارہا ہے جبکہ دریائی سیلابی ریلوں کا ابھی ملک کے بیشتر حصوں سے گزرنا باقی ہے۔

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں حالیہ شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف تو سیلاب کی شدت نے سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا سمیت پورے ملک میں ہزاروں بستیوں اور خاندانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے تو دوسری طرف ان کے مکانات، مال مویشی، فصلوں اور دیگر کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے وہ بے سرو سامان اور بے یار مددگار ہوگئے ہیں۔ خاص طور پر سندھ کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہونے کے دھانے پر پہنچ چکی ہیں جس میں چاول، مکئی، کپاس، گنا اور سبزیاں سر فہرست ہیں۔ پی ڈی ایم اے، سندھ کی کل (29 اگست) کی رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے بیشتر اضلاع حالیہ بارشوں سے نہ ہی صرف شدید متاثر ہوئے ہیں بلکہ یہاں کی زندگی انتہائی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے جس میں دادو، خیرپور، شہید بے نظیر آباد (نواب شاہ)، لاڑکانہ، نوشہرو فیروز، شکارپور، سانگھر، کشمور، گھوٹکی اور میرپور خاص سمیت دیگر اضلاع شامل ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق سندھ میں اب تک 402 افراد جاں بحق، 1,055 افراد زخمی اور 15,435 مال مویشی ہلاک ہوگئے۔ 2,53,208 مکان مکمل طور پر ڈھ گئے جبکہ 6,31,389 مکانوں کو جزوی نقصان پہنچا۔ صرف صوبہ سندھ کی 3,269,608 ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا اور فصلیں تباہ ہوئیں۔ ضلع لاڑکانہ کے 80 فیصد مکانوں اور 90 فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ حالیہ بارش کے نتیجے میں 7,133,650 افراد، 1,191,356 گھرانے متاثر ہوئے جبکہ 4,098,053 افراد بے گھر ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر گھوٹکی محمد عثمان عبداللہ کے مطابق صرف ضلع گھوٹکی میں اب تک 8 فوتگیاں اور 39 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ 3,46,863 ایکڑ زمین پر مشتمل فصلیں اور 4,044 مکانات مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ 9,974 گھروں کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ 13,451 خاندان اور 72,590 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ مندرجہ بالا اعداد و شمار حکومت سندھ کے محکموں کی جانب سے جاری کردہ ہیں اور اب تک کی رپورٹ کی بنیاد پر ہیں جبکہ حقیقی واقعات کو منظر عام پر نہ لانے اور وقت کے ساتھ ان اعداد و شمار کے بڑھ جانے کا خطرہ اور اندیشہ ہے۔ ان بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا اصل اندازہ اور تخمینہ یہ آفت گزرجانے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔ دیگر ذرائع کے مطابق صوبہ سندھ کے کم از کم دیہی علاقوں میں کوئی کچا مکان ایسا نہیں ہے جو متاثر نہ ہوا ہو۔ انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں میں بیماریاں پھوٹ رہی ہیں جو ان کی موت کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ کچے کے ساتھ ساتھ پکے کے علاقے بھی زیر آب ہیں اور ہزاروں لوگ اس وقت امداد کے انتظار میں کھلے آسمان تلے سڑکوں پر شب و روز گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) کے مختلف اضلاع کے ممبران کے مطابق سندھ کے بعض اضلاع میں کوئی سرکاری امداد ابھی تک نہیں پہنچی ہے جو کہ حکومتی نااہلی اور بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

Continue reading

سامراجی ہتھکنڈے اور موجودہ معاشی بحران: مزدور تحریک کے امکانات

پریس ریلیز؛ 22 فروری 2022

دنیا بھر میں یکم مئی، 1886 میں شکاگو کے مزدوروں کی جدوجہد کی یاد میں مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) اور روٹس فار ایکوٹی نے ماہ رمضان کے پیش نظر اس سال یکم مئی کا جلسہ 22 مئی، 2022 کو حطار انڈسٹریل اسٹیٹ ہری پور میں منعقد کیا۔ جس میں بڑی تعداد میں مزدور کسان رہنماؤں اور کسان دوست ساتھیوں نے شرکت کی۔

پاکستان میں جاری معاشی بحران کا سبب کورونا وبا نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جو کہ بحرانوں میں بھی اپنے منافع کے حصول کو اولیت دیتا ہے، کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ شدید معاشی اور سماجی مسائل میں پسے ہوئے مزدور طبقہ کو عالمی مالیاتی اداروں خصوصاً آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس طبقے کے لیے صحت، تعلیم اور بہتر روزگار کا حصول پہلے ہی جان جوکھوں کا کام تھا مگر بڑھتی ہوئی مہنگائی جس میں کھانے پینے کی ضروری اشیاء چینی، آٹا، چینی، دودھ، مرغی، سبزی، گوشت، آلو، ٹماٹر، تیل سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں میں ہوشروبا اضافہ کے ساتھ ساتھ پیٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پسے ہوئے طبقات کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اندازہ اس بات سے دیکھا جاسکتا ہے کہ اپریل 2022 میں گزشتہ 11 سالوں میں سب سے زیادہ مہنگائی 13.37 فیصد نوٹ کی گئی۔ جبکہ بے روزگاری میں مالی سال 2019-2020 میں بے روزگاری کے شکار 5.80 ملین افراد سے بڑھ کر مالی سال 2020-2021 میں 6.65 ملین افراد ہوگئے۔
بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمہ کے لیے حکومت کی طرف سے کوئی اقدام تو کجا حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے ملک دشمن اور عوام دشمن معاہدہ کے تحت مزید معاشی پستی کی جانب گامزن ہے۔ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ملکی قرضوں میں مزید اضافہ کرتی جارہی ہے۔ حکومت کی ترجیح عوامی مسائل کے حل کے بجائے آئی ایم ایف کی ایماء پر اسٹیٹ بینک کو حکومتی تحویل سے آزاد کرنے کے قانون کا اجراء جیسی ملک و عوام دشمن پالیسیوں کے ذریعہ پاکستان میں نوآبادیاتی شکنجے کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ آزاد تجارتی پالیسی کے تحت سرکاری شعبہ میں چلنے والی صنعتوں اور اداروں کو نجی شعبے میں دے دیا گیا جس سے بڑی تعداد میں مزدوروں کی بے روزگاری میں اضافہ اور سرکاری سہولیات میں کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ Continue reading

Govt asked to protect rights of small, landless farmers

Bureau Report | March 30, 2022

PESHAWAR: Representatives of farmers, agriculture workers and non-governmental organisations said here on Tuesday that the government was allowing free market forces to take over land, livestock, food production and processes as well as markets instead of promoting small and landless farmers.

They vowed to fight all forms of feudal encroachments and grabbing of agricultural land by big corporations and to strive for food security.

Addressing a press conference at Peshawar Press Club, representatives of Pakistan Kisan Mazdoor Tehreek (PKMT) and peasant movements demanded of the federal government to provide substantial economic relief through social protection initiatives to all the marginalised people, especially women.

The presser was organised in connection with the Day of the Landless. It was addressed by representatives from across the country, including PKMT general secretary Tariq Mehmood, Dr Azra Saeed of Roots for Equity, Zahoor Joya from Multan, Ali Nawaz from Ghotki, Nabi Jan from Peshawar and others.

“Even during the Covid-19 pandemic, instead of promoting and implementing policies that would promote sustainable food system, the United Nations supported mega business platforms and corporations to promote industrial-chemical methods of agricultural production,” he said.

Mr Mehmood said that corporate farming systems, including those being used in the dairy and livestock sector, were responsible for eviction of small and landless farmers from their communities. A key example, he claimed, was the authority’s taking away control of the fresh milk sector from small producers and giving it to huge corporations.

He said that digitalisation of the food production system would allow further encroachment of not only agro-chemical corporations, but also financial and IT corporations to control agriculture.

Published in Dawn, March 30th, 2022

https://www.dawn.com/news/1682440/govt-asked-to-protect-rights-of-small-landless-farmers

Peasants, Rise Up against Land Grabs and Fascism!

Press Release | March 29, 2022

Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek along with peasant movements, food sovereignty advocates, and supporters of genuine agrarian reform around the world, mark this year’s Day of the Landless enraged by the renewed push of big corporations, the rich governments representing them, and the governments of poor countries subservient to foreign and private capital of their land grabbing in the name of development and so called climate friendly schemes in the pretext of climate change mitigation and sustainable food systems.

It is shameful that even during the Covid19 pandemic, instead of promoting and implementing policies that would promote sustainable food system, the United Nations directly supported and worked with mega business platforms and corporations to promote industrial-chemical methods of agricultural production that suit the very actors responsible for unsustainable food production directly responsible for the present climate crisis, that has even in the past few months reached alarming heights.

The major infrastructure projects such as the case of Northern Bypass, corporate farming systems including those being used in the dairy and livestock sector are responsible for eviction of small and landless farmers from their communities. Instead of promoting small farmers and landless farmers who practice traditional sustainable methods of agricultural production, our government is allowing free market forces to take over land, livestock, food production and processes as well as markets. A key example is the Pure Food Authority to take away control of the fresh milk sector from small producers and give control to huge corporations such as Nestle and Friesland Campina. Corporations like Pepsi Co are producing potatoes on more than 20,000 acres of land that is resulting in more and more agricultural workers to work on hunger wages. Digitalization of the food production system, an example being of the Pakistan Kissan Card is a dangerous element of trade liberalization that will allow further encroachment of not only agro-chemial corporations but also financial and IT corporations to control our agriculture. Critical food crops such as wheat production is being affected immensely. At the same time, increasing sugarcane production, a key biofuel crop, is also a contributor to drastic loss of livelihood for landless agricultural works pushing landless women to carry out backbreaking work in sugarcane harvesting just to access fodder for their animals.  These profit-seeking corporations are being fully facilitated by our state mechanism much of which is controlled by feudal lords.

The imperialist international financial system, especially the International Monetary Fund (IMF) has imposed grotesque conditionalities based on which the small farmers, the landless, the women and children of the working classes face crippling poverty and hunger. The extremely high cost of agricultural production is leading to pauperization of small farmers, many facing eviction and being forced to sell their already meagre landholding.

Additionally, the ongoing COVID-19 pandemic continues to deepen the contradictions between the land and resource grabbers — the monopoly capitalists, finance oligarchs, local compradors, landlords, and bureaucrats — and the farmers, farmworkers, fishers, indigenous people, rural women and youth, and other rural sectors. Covid19 pandemic has led to new levels of global poverty and hunger that primarily impact rural peoples. Aggravating this are the wars and conflicts perpetrated by the competing interests of big global powers. The war in Ukraine that is being driven by the US-Russia rivalry, for instance, is exacerbating the already very dire situation of global hunger and food insecurity. Under the worsening socio-economic conditions of billions worldwide due to structural social inequalities the ruling classes are increasingly resorting fascist and dictatorial measures to maintain their power amid massive social unrests. 

PKMT stands firm in its fight for the rights of small and landless farmers, for the entire working class. We will continue to fight for food sovereignty, strengthen our solidarity with the masses and expose and fight all forms of feudal encroachments and corporate grab, while promoting sustainable food systems based on the people’s rights to land and resources and a healthy planet.

  • Stop land grabs!
  • Stop the fascist attacks and human rights violations against rural peoples!
  • Advance just, equitable, healthy, and sustainable food systems!
  • Genuine agrarian reform now!

Release by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT)

DOTL 2022_Urdu Press Release  

Corporate Capture in Dairy and Livestock

Press Release | Women Farmers’ Press Conference on Corporate Capture in Dairy and Livestock

On November 10 2021, women farmers and members of Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) held a press conference at the Sahiwal Press Club to protest against governments crackdown on fresh milk, the proposed ban on the sale of fresh milk along with the impending implementation of the Minimum Pasteurization Law as well as increasing trade liberalization and corporatization of the dairy and livestock sector.

Women farmers said that dairy corporations seeking to capture the dairy sector for their own profits are leading the attack against fresh milk by labelling it unsafe and unhygienic. Majority of the people in our country prefer the taste of fresh, whole milk and it is due to corporations’ failure to increase the popularity of packaged milk that they are resorting to other means, including pushing for stringent processing regulations and enlisting doctors and scientists to back unfounded claims regarding the safety of farmer-produced milk. According to PKMT members, international standards dictated by Codex and WTO form the base of attacks against fresh milk, corporate maligning of fresh milk makes no logical sense since our ancestors have been producing and consuming milk in the traditional way since many millennia without any negative impacts on their health.

Women farmers also spoke of the recent drive to import foreign cattle for increasing milk productivity. They said that such measures only benefit large cattle farms since small and landless farmers cannot afford to buy and sustain imported cattle due to high cost of industrial animal feed, veterinary costs and infrastructural costs. Additionally, there are high security risks of keeping expensive cattle in villages. The popularization of high-tech processes including artificial insemination techniques and genetic manipulation as well as company-produced products including hybrid fodder seeds and mechanized milking equipment are part of a drive to establish large-scale dairy farms and drive out small and landless farmers from the dairy and livestock sector.

Asserting their position as the key workforce in livestock rearing and maintenance, women farmers also highlighted how land and livestock are complex and deeply interconnected components of rural economies and are crucial to their livelihoods. Women reiterated the demand for just and equitable land distribution, saying that land access is crucial for accessing fodder to sustain livestock. They also said that the sale of milk, milk products and dung cakes ensures regular income that is critical for daily household expenditure.  A ban on fresh milk and corporate takeover of the sector would not only steal their livelihoods but would also be detrimental to their health; access to fresh milk works to offset rural nutritional deficit due to consumption of milk, butter, yoghurt, lassi and ghee.

Women said that the imposition of anti-farmer and pro-corporate standards and policies is threatening their lives, livelihoods and their right to food sovereignty. They made the following demands:

  • Prioritize just, equitable and genuine land reforms that allow land redistribution to landless farmers, including women agriculture workers
  • Ensuring women’s right to own and control land, livestock and all productive resources
  • Reject WTO-enforced international food safety standards and all WTO Agreements, including TRIPs Agreement that has captured farmers’ seed resources and now, is attacking livestock genetic resources
  • Conserve hardy indigenous livestock species that are resilient, well-adapted to local climate and produce high-quality milk (using local varieties of fodder)
  • Government must disallow foreign investments in farming, dairy and livestock sector that are encouraging the formation of large-scale, mechanized corporate entities

Release by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek & Roots for Equity

Urdu Press Release; Press Release_Press Conference_Sahiwal

Corporate entities, IFIs and neoliberal policies are directly responsible for the hunger, malnourishment and economic destitution

Press Release | PKMT 14th Annual Conference 2021 | October 15-16, 2021

Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek held its 14th Annual Conference from October 15 -16 at Renewal Centre, Lahore and simultaneously, held panel discussions and demonstrations to mark International Rural Women’s Day and World Hunger Day. During the events, speakers held corporate entities, IFIs and neoliberal policies accountable for creating food systems that are directly responsible for the hunger, malnourishment and economic destitution of more than a billion.

Azra Sayeed, Roots for Equity exposed corporate hijack of the United Nations Food Systems Summit, highlighting the role of the World Economic Forum, and foundations especially, the Gates Foundation and philanthropies who have provided corporate-driven policies depriving farmers of land, livelihood and food by funding technology intense systems in third world countries; the entire UNFSS was termed as nothing but a hallmark of false solutions to hunger e.g. pre-mixed therapeutic food that accrues billions of dollars in profit for corporations. Wali Haider, PKMT General Secretary highlighted the neoliberal policies in food and agriculture introduced in Pakistan amidst the pandemic reflecting much of the neocolonial policies emitting from the UNFSS. These policies are a fresh wave of attacks on small and landless farmers in Pakistan, embedded in the Pakistan Agricultural Transformation Plan, Kisan Card scheme, CPEC’s agricultural policies and livestock development programs. Policy features of digitalization of the agricultural economy, value chain strengthening and cluster-based food production panders to the corporate lobby, facilitates corporate land grab for export-oriented production, benefits landlords and industrialists and captures natural resources e.g. water, agricultural land, forests and rare minerals for company use. Essentially, it is a blueprint of UNFSS’s vision for food systems transformation and completely overrides small farmers’ rights to land and livelihood.

According to Raja Mujeeb, Steering Committee member, PKMT, the Global People’s Summit, a Global-South counter to the UNFSS main objective was to mobilize landless farmers, agricultural workers, indigenous peoples, fisherfolk and rural women across the world to develop a People’s Action Plan and draw up a Declaration for a people-led radical transformation of the current food regimes towards just, equitable, healthy, and sustainable food systems. The GPS is a testimony of the people’s collective resistance against the global corporate food empire and a call for genuine food systems transformation.

As part of the panel on movements and struggles, Asif Khan, PKMT Steering Committee member, presented an overview and analysis of peoples’ struggles and movements across the world, saying that revolutionary politics and direct action is the only way to grant farmers complete rights overall productive resources and complete autonomy and decision making in food and agriculture.

A number of other activities highlighted Rural Women’s Day with a tribute to rural women for the formal and informal, paid and unpaid work in food and agriculture. PKMT also celebrated 10 years of its struggle for seed sovereignty by holding a seed mela with indigenous seeds from all over Pakistan.

In addition, a protest was held as part of the Global Day of Action against IMF and World Bank Annual Meetings. The protest actions called for an immediate TRIPS waiver, debt cancellation and an end to resource plunder and greenwashing practices in the name of development.

Demands:

  • Implementation of agroecological approaches to agriculture based on food sovereignty principles that center peasants’ right to land and collective rights over all critical productive resources, in order to create just, equitable, healthy and sustainable food systems that ensure safe and nutritious food for all;
  • Recognition of the role that women and rural communities play in conserving plant and animal genetic resources through agricultural practices rooted in traditional knowledge;
  • Boycott all neoliberal corporate-led platforms, policies and action plans such as UNFSS and bilateral and multilateral trade agreements such as the RCEP, CPTPP and others that allow the monopolization of global trade by TNCs;
  • Provide climate justice now by demanding greater accountability and higher compensation for solutions from countries with a higher level of development who have destroyed Earth’s life systems due to extractive and polluting capitalist production model.

Release by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT)

“Building a Healthy Planet: Promoting Safe and Nutritious Food for All.”

Press Release; July 1, 2021

On July 1, 2021, Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) and Roots for Equity held a webinar to launch their joint campaign titled “Building a Healthy Planet: Promoting Safe and Nutritious Food for All.”

Mr. Tariq Mehmood provided an overview of the campaign with its objective of sensitizing small producers, consumers and society in general regarding the human and environmental cost of corporate-controlled and chemical-intensive industrial agricultural production and promoting the use of agroecology and food sovereignty as an antidote to corporate agriculture.

Dr. Azra Talat Sayeed from Roots for Equity highlighted the need for an alliance of progressive voices and platforms in urban and rural areas that can struggle for access to safe and nutritious food for all, especially in the face of a global crisis the Covid-19 pandemic. She highlighted the urgent need for solidarity amongst small producers, industrial workers, consumers, academics, women, youth and other actors in the struggle for food sovereignty. According to her, that was the most needful act as a way forward in the face of multiple social, economic and political factors that are impacting food production and consumption. She highlighted the numerous crises including food and economic crisis, environmental, health and climate among others. Dr Sayeed identified the role of corporate agriculture along with other imperialist institutions such as the World Trade Organization (WTO) and other institutions that should be held accountable for the destruction of the environment and sharply rising global inequities, including rising hunger.

Shaheen Mahar, a PKMT member from Ghotki, highlighted women farmers’ immense, unparalleled labour and demanded immediate redressal for the injustices they face, especially their lack of access to food, let alone safe and nutritious food. In the face of Covid-19, women are facing acute hunger as well as lack of decent livelihood. She stressed the need for not only women’s right to land but implementation of land ownership for women farmers. She pointed out that the ongoing trade liberalization and corporatization of the dairy sector along with government-led crackdowns on the sale of raw milk are a direct threat to rural women’s livelihoods and their right to food sovereignty. Shaheen also elaborated on the gendered impact of chemical pesticide usage; since women agriculture workers are extensively involved in pesticide application, they face numerous health risks due to direct exposure to toxic pesticides.

Asif Khan, a farmer from Haripur and PKMT Steering Committee member stressed the need for self-reliance in food and agriculture production. He emphasized that unchecked industrial development, capitalist first-world countries and fossil-fuel driven corporate agriculture are responsible for environmental destruction, climate crisis and are a source of a high percentage of past and present emissions. Yet, it is small and landless farmers in third world countries, along with other marginalized groups, who disproportionately bear the brunt of climate change. Asif critiqued the inequitable nature of the world food system; despite having tenuous access and ownership rights to land and other productive resources, small farmers toil ceaselessly to produce most of the world’s food. He stressed the need for an alternate just and equitable food system as the basis for healthy, nutritious food production.

Mr. Zahoor Joya presented an outline of the scheduled activities for the campaign starting from today and continuing until October 16, 2021, culminating in programs to mark 15th and 16th October as the International Day for Rural Women, and World Food Day which PKMT and Roots for Equity mark as World Hunger Day.

Demands:

  • An end to poisonous agricultural inputs and an end to monopolistic control of TNCs in the food and agriculture sector;
  • Provision of food and agriculture laws that promote agroecological food production as a safe, viable & sustainable alternative to corporate agriculture;
  • Mobilization of peasant movements to fight for their right to self-reliance and self-determination in food production & distribution;
  • Promotion of healthy and nutritious cultural foods like local fruits and vegetables, milk, desi ghee, butter and lassi as opposed to mass-produced, processed foods devoid of nutrition
  • Repeal of detrimental neoliberal food and agriculture policies that impede farmers’ right to decent livelihood
  • Prioritize just, equitable and genuine land reforms that allow land redistribution to landless farmers (including women agriculture workers) along with control over all productive resources;
  • Farmers’ access to and control over reliable markets for agricultural and non-agricultural products
  • Small and landless farmers’ access to government credit schemes, government subsidies and social security benefits.

 Release by: Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) & Roots for Equity

بڑھتی ہوئی صنعتی زراعت اور زرعی زمینوں پر قبضہ: کسانوں کا لائحہ عمل

پریس ریلز

پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) ضلع شکارپور کا دوسرا ضلعی اجلاس بعنوان”صنعتی زراعت اور زرعی زمینوں پر قبضہ“ مورخہ20جون2021کومنعقدکیا گیا۔ جس میں ضلع بھرکے چھوٹے اور بے زمین کسان مزدوروں کی جانب سے شرکت کی گئی۔ اجلاس کی شروعات پی کے ایم ٹی کے ترانے سے کی گئی۔

0پی کے ایم ٹی کے رکن علی گل نے سرمایہ دارانہ زراعت کے کسانوں اور مزدوروں پر اثرات کے موضوع پر بتایا کہ ”پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی 70 فیصد آبادی بلواسطہ یا بلا واسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ ہماری دیگرکئی اور ضروریات بھی کسی نا کسی طور اس شعبے سے ہی منسلک ہیں “۔ کسان ملک بھر میں کئی طرح کی فصلیں کاشت کرتے ہیں جس کی وجہ سے آج ہم دنیا کے صف اول کے ان دس ممالک میں شامل ہیں جہاں گندم، چاول، کپاس، گنا، مکئی، سبزیاں، گوشت، اور دودھ کی پیداواربھر پور طور سے ہو رہی ہے۔ لیکن پیداوار پر زیادہ تر اختیار مٹھی بھر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہے۔ بیج سے لے کر کھاد اور دیگر زرعی مداخل کسان منڈی سے حاصل کرنے لگے اورساتھ ہی زمین کی تیاری، فصل کی کٹائی میں تھریشرکا بھی استعمال شروع ہوا جوکہ تمام تر ایندھن سے چلتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں کسان اپنے دیسی اور روایتی بیج سے محروم ہوئے اور بے روز گاری میں بھی اضافے کاسبب بنا۔ ان تمام عوامل کی اہم وجہ صنعتی زراعت ہے جس کے نتیجہ میں ہماری روایتی کھیتی باڑی مصنوعی زراعت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ صنعتی زراعت کی شروعات 1960 کی دہائی میں زرعی پالیسی یاسبز انقلاب کے نام سے ہوئی۔ہمارے کسانوں کو زیادہ پیداوار کی لالچ اور سبز خواب دکھائے گئے۔ غیر ملکی بیج اور کھاد بنانے والی کمپنیوں نے زیادہ پیداوار دینے والے بیج، کھاد، زہریلی ادویات اور جدید مشینیں متعارف کروائیں۔ جس پر مکمل اختیار سرمایہ داروں کے پاس تھا۔کسان اپنے دیسی اور روایتی بیج سے محروم ہوئے بلکہ بے روز گاری میں بھی اضافہ ہوا۔ غیر معیاری بیج کے آنے سے کسان نہ صرف بیج سے محروم ہوا بلکہ اس پر استعمال ہونے والے زہریلی اودیات اور کیمیائی کھاد کی وجہ سے کسان بیماریوں میں جکڑے گئے اور ماحول کی تباہی الگ سے ہوئی۔ فصلوں کی کٹائی کا زیادہ تر کام کسان عورتیں ہی سرانجام دیتی ہیں، لہذا ان کی ایک بڑی تعداد کو ان مشکلات کاسامنا ہے۔

ایک طرف ملک کی اکثریتی زرعی زمین چند خاندانوں کے قبضے میں ہے جبکہ دوسری جانب کسان منڈی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ آج کے دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کسان و مزدور بھوک، افلاس اور فاقوں کا شکار ہیں۔ یہ طبقہ گرمی، سردی، دھوپ کی پرواہ کیے بغیر ہمارے لیے کھانا اگاتے ہیں لیکن ان کے اپنے گھروں میں دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے پوری ہوپاتی ہے۔ان تمام مسائل کا حل بے زمین کسانوں میں زمین کا مساویانہ بٹوارہ، بیج پر کسانوں کے مالکانہ حقوق کو تسلیم کرنا اور زرعی مداحل کو کسانوں کے اختیار میں دے کرہی کیا جا سکتا ہے۔

پی کے ایم ٹی کے رہنما حاکم گل کا کہنا تھا کہ” شکارپور تاریخی طور پر تجارت کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔ ضلع کی کل آبادی تقریباََ 12لاکھ سے زیادہ ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے نہ صرف شہر بلکہ دریائی علاقوں تک ہاؤسنگ اسکیموں کے نام سے زرعی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا ہے۔کسانوں کو اپنی زرعی زمینیں جبراََبیچنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ اور اس کام میں سرکاری افسران، بڑے جاگیردار اور سرمایہ دارملوث ہیں“۔ زرعی زمینوں پر اگر پیٹرول پمپ، ہاؤسنگ سوسائٹی، ہوٹل بنا دیئے جائیں گے تو آنے والے وقت میں کسان اناج کہاں اگائیں گے؟
شکارپور میں ڈاکووں اور پولیس کے آئے دن مقابلے جاری ہیں۔ کیا واقعتا ڈاکو ہیں یا اصل معاملہ شکارپور میں جنگلات کی زمین پر قبضہ کرنا ہے؟ پولیس سرچ آپریشن کے نام پر تگانی جنگل میں گاؤں کے گاؤں خالی کروارہی ہے۔ درختوں کو کاٹا جارہا ہے اور آگ لگائی جارہی ہے تاکہ ڈاکوں کو پکڑنے میں آسانی ہو۔ حکومت کو اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقیقت کو منظر عام پر لانا چاہئیے۔

پی کے ایم ٹی کے رکن شوکت علی نے بتایا کہ ”پاکستان دودھ پیدا کرنے میں دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔ اوردودھ ہماری خوراک کا ایک اہم جزو ہے۔جبکہ ضلع شکارپور میں چارہ کم ملنے کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔ دوسری جانب دودھ کے شعبے میں کمپنیوں کا کردار ہے جو ٹی وی اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے سے یہ باور کرنے میں جتے ہوئے ہیں کہ کھلا دودھ انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ جانوروں کے لیے چارہ اگانے میں کسان عورتیں پیش پیش ہیں لیکن اصلمنافع دودھ کی کمپنیاں حاصل کر رہی ہیں۔
پاکستان کسان مزدور تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ

۔ خوراک اور زراعت کے شعبے میں کمپنیوں کے قبضے سے نجات کے ساتھ زرعی قوانین پر پابندی لاگو کی جائے جو کہ چھوٹے اور بے زمین کسانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
۔ کسانوں کے آبائی زمین سے بے دخلی پر مکمل پابندی عائدکی جائے۔ ترقیاتی کاموں کے بہانے زمین اور وسائل پر سرمایہ کاروں اور سرمایہ داروں کے قبضے کو فروغ دینا بند کیا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ، مقامی اور قبائلی لوگوں کے جنگلات، شاملات اور دیگر قدرتی وسائل پر مقامی حقوق کو لازم کیا جائے۔
۔ منصفانہ زمینی بٹوارے کو یقنی بنایا جائے تاکہ بے زمین کسانوں اور زرعی مزدور عورتوں کو زمین اور خوراک کی خودمختاری یقینی ہو۔
۔ ڈیری اور لائیو سٹاک کے شعبے میں مقامی اور غیر ملکی نجی سرمایہ کاری کو ختم کریں اور ان پالیسیوں پر عمل درآمد کریں جو چھوٹے لائیوسٹاک اور دودھ پیدا کرنے والوں کے حق میں ہوں۔

جاری کردہ: پاکستان کسان مزدور تحریک؛

English Press Release