حکومت کی بے حسی نے عوام کو شدید بھوک کا شکار کردیا ہے!

پریس ریلیز ، 16 اکتوبر 2025

پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) اور روٹس فار ایکوٹی دیگر علاقائی اور عالمی تنظیموں ایشین پیزنٹ کولیشن (اے پی سی) اور پیپلز کولیشن آن فوڈ سورنٹی (پی سی ایف ایس) کے اشتراک سے پچھلے کئی سالوں سے 16 اکتوبر خوراک کے عالمی دن کو ”بھوک کے عالمی دن“ کے طور پر مناتی ہے۔ اس سلسلے میں پی کے ایم ٹی نے سکھر، خیرپور، شکارپور اور ماتلی پریس کلب میں پریس کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ اس کے علاوہ پشاور پریس کلب کے سامنے ہری پور اور پشاور کے کسانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جبکہ جام پور میں بھی احتجاج کا اہتمام کیا گیا۔

پاکستان کسان مزدور تحریک کے رہنماؤں نے حکومت پاکستان کی کسان دشمن پالیسیوں اور زرعی خود مختاری پر حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سال بھی حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہ کرنے سے چھوٹے اور بے زمین کسان بدترین معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ پی کے ایم ٹی کے مطابق گندم پاکستان کی غذائی خود مختاری کی علامت ہے مگر حکومت کا کسانوں کے لیے امدادی قیمت طے نہ کرنا دراصل ان کی محنت اور روزگار پر کاری ضرب ہے۔ اس کے نتیجے میں کسان پیداواری لاگت بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں جب کہ کھاد، بیج اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافہ اُن کی مشکلات میں مزید اضافہ کررہا ہے اور زرعی بین الاقوامی کمپنیاں بیش بہا منافع کمارہی ہیں۔

Continue reading

سامراجی جنگوں، قرضوں ، موسمی بحران اور عدم مساوات کے خلاف عوامی محاذ

پریس ریلیز | 15 مئی 2025

پاکستان کسان مزدور تحریک(پی کے ایم ٹی )    ضلع شکارپور نے  چھٹا ضلعی اجلاس شکارپور سامراجی جنگوں، قرضوں، موسمی بحران اور عدم مساوات کے خلاف عوامی محاذ عنوان سے انعقاد کیا، جس کا مرکزی موضوع “یوم نکبہ” تھا۔ اس اجلاس کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا، ان کی آزادی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنا، اور سامراجیت و صیہونیت کے خلاف عالمی مزاحمت کی حمایت کرنا تھا۔ اس موقع پر مقامی کسانوں، مزدوروں، سماجی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی اظہار یکجہتی کا اظہار کیا۔ Continue reading

!کسان زمینی ملکیت کے لیے اٹھ کھٹرے ہوں

پریس ریلیز | 29 مارچ بے زمین کسانوں کا عالمی دن

پچھلے کئی سالوں سے پاکستان کسان مزدور تحریک دیگر کسان مزدور اور سامراج مخالف تحریکوں،ایشین پیزینٹ کولیشن (اے پی سی) ، پیپلز کولیشن آن فوڈ سورنٹی (پی سی ایف ایس )، پیسٹی سائیڈایکشن نیٹ ورک ایشیا پیسیفک (پین اے پی )اور انٹرنیشنل لیگ آف پیپلز اسٹراگل (آئی ایل پی ایس)کے اشتراک سے 29 مارچ کو بے زمین کسانوں کے عالمی دن کے طور پر منارہی ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خوراک کی خود مختاری اور دنیا بھر میں حقیقی زرعی اصلاحات کے لیے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کی جدوجہد کو اُجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور ان کی نمائندگی کرنے والی سامراجی ممالک کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے ممالک کی حکومتوں کے ظلم، جبر اور استحصال کو بے نقاب کرنا بھی شامل ہے۔

        Continue reading

خوراک ، زمین اور موسمی انصاف کے لیے پاکستان عوامی کارواں

پریس ریلیز | 18 اکتوبر 2023

پاکستان کسان مزدور تحریک   اور روٹس فار ایکوٹی نے 18 اکتوبر، 2023 کو شکار پور، سندھ میں خوراک، زمین اور موسمی انصاف کے لیے ”عالمی عوامی کارواں“ کے سلسلے میں پہلا ”پاکستان عوامی کارواں منعقد کیا۔ اس حوالے سے آنے والے ہفتوں میں پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی اس ”عوامی کارواں“ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اسی طرح کے کارواں ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ، اور دیگر خطوں میں بھی اکتوبر-نومبر 2023 کے دورانیہ میں منعقد کیے جائیں گے۔ کارواں کا یہ سلسلہ 30 نومبر سے 12 دسمبر تک دبئی، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمی تبدیلی کانفرنس کے 28 ویں اجلاس تک جاری رہے گا۔

               بالعموم پاکستان اور بالخصوص ہماری دیہی آبادیوں کے لیے ایک ایسا بہترین پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے زمین، بھوک، وسائل پر قبضہ اور موسمی بحران جیسے مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے مطالبات کی طرف دنیا بھر کی عوام، ذرائع ابلاغ (میڈیا) اور پالیسی سازوں کی توجہ مبذول کرائی جا سکتی ہے۔ دیہی آبادیوں کی تحریکیں عالمی بھوک، نقل مکانی اور ماحولیاتی و موسمی تباہی کا مقابلہ کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ وہ سامراجیت یعنی ’عالمی سلطنت‘ کے امیر ترین ممالک کے مالیاتی گٹھ جوڑ اور ان کی اجارہ دار کمپنیوں کا محاسبہ کررہی ہیں۔ ہمیں ان تحریکوں کو حقیقی معنوں میں مضبوط کرنے اور ان کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کی عوام بشمول انتہائی پس ماندہ دیہی آبادیوں کے لیے اور ان کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے نتیجہ خیز پالیسی سازی تشکیل دی جا سکے۔ Continue reading

دیہی عوام کا مطالبہ: خوراک زمین اور موسمی انصاف

پریس ریلیز | بھوک کا عالمی دن | 16 اکتوبر 2023 

 پاکستان کسان مزدور تحریک اور روٹس فار ایکوٹی نے ایشین پیزنٹ کولیشن، پیسٹی سائیڈ ایکشن نیٹ ورک کے تعاون سے 16 اکتوبر، 2023 کو “بھوک کا عالمی دن” کے طور پر منا رہے ہیں۔ جیسے عام طور پر “خوراک کا عالمی دن ” کہہ کر منایا جاتا ہے۔  اس موقع پر سندھ کے شہر گھوٹکی میں کسانوں کے اجتماع (جلسہ) کا اہتمام کیا گیا ہے۔

               یونیسف اور ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریبا 333 ملین بچے (ہر چھ بچوں میں سے ایک) شدید غربت میں زندگی گزاررہے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا میں 62 ملین بچے شدید غربت کا شکار ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اندازے کےمطابق دنیا بھر میں 345 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق 2022 میں دنیا میں بھوک کے شکار افراد کی تعداد 691 ملین سے 783 ملین کے درمیان تھی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ بیانیہ کے مطابق اس سال مزید 745 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بظاہر تو ہم اکیسویں صدی میں ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اعلی  تکنیکی ترقی بھی ہو رہی ہے لیکن دنیا بڑھتی ہوئی بھوک کا سامنا کر رہی ہے، جن میں دیہی عورتیں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ، جو کہ نہ صرف بھوک اور غذائی کمی کا شکار ہیں بلکہ مناسب روزگار اور اپنی ذاتی زمین بالخصوص زرعی زمین کی ملکیت سے بھی محروم ہیں۔

Continue reading

کسان مزدور عورتوں کا مطالبہ: زمین ، خوراک اور فیصلہ سازی کا اختیار

پریس ریلیز | دیہی عورتوں کا عالمی دن | 15 اکتوبر 2023

پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی ) اور روٹس فور ایکوٹی دیہی عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر عالمی سامراجی پالیسیوں کی جانب اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان پر سوال اٹھاتی ہے۔ ایک طرف تو یوں لگتا ہے کہ نام نہاد ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دنیا بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے خاص طور پر زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے ریاستی سطح پر پالیسی سازی کی جارہی ہے اور بڑھ چڑھ کر حکمت عملیاں ترتیب دی جارہیں ہیں۔ دوسری جانب زراعت کے شعبے سے جڑی آبادیوں میں بھوک اور غذائی کمی بڑھتی جارہی ہےبالخصوص عورتیں اور بچے اس خوراک کی کمی کے شدید متاثرین میں سے ہیں۔ دنیا میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی کمی ماضی کے سبز انقلاب کی حقیقت اور جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی صنعتی زراعت کی اصلیت اور اس کے پیچھے چھپے سامراجیت کے زمین و خوراک پر قبضے کی اہداف اور جھوٹ کو عیاں کرتی ہے۔

                    یونیسف اور ورلڈ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں تقریبا 333 ملین بچے (ہر چھ بچوں میں سے ایک) شدید غربت میں زندگی گزاررہے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا میں 62 ملین بچے شدید غربت کا شکار ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے اندازے کےمطابق دنیا بھر میں 345 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک و زراعت کے مطابق 2022 میں دنیا میں بھوک کے شکار افراد کی تعداد 691 ملین سے 783 ملین کے درمیان تھی۔ اقوام متحدہ کے حالیہ بیانیہ کے مطابق اس سال مزید 745 ملین افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بظاہر تو ہم اکیسویں صدی میں ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اعلی  تکنیکی ترقی بھی ہو رہی ہے لیکن دنیا بڑھتی ہوئی بھوک کا سامنا کر رہی ہے، جن میں دیہی عورتیں سب سے زیادہ پسماندہ ہیں ، جو کہ نہ صرف بھوک اور غذائی کمی کا شکار ہیں بلکہ مناسب روزگار اور اپنی ذاتی زمین بالخصوص زرعی زمین کی ملکیت سے بھی محروم ہیں۔

                    خاص طور پر پاکستان میں کسان مزدور عورتیں زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں مگر تقریباً سب ہی بے زمین ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ زمین و زراعت میں کسی بھی قسم کی فیصلہ سازی کا اختیار نہیں رکھتیں۔ بیج کی بوائی سے لے کر فصل کی کٹائی تک ، مال مویشیوں کا چارہ پانی کا خیال رکھنے سے لیکر دودھ و دھنے اور ان کی دیکھ بھال کرنے تک، عورتوں کی اولین ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔ تمام فصلیں ، خاص طور پر گندم کی کٹائی جو کہ کمرتوڑ محنت طلب کرتی ہے، اور کپاس کی چنائی جو کہ ہاتھ پیروں کے زخمی ہو جانے کا سبب بنتی ہے اور سبزیاں جن میں زہریلی ادویات کے استعمال کی وجہ سے کئی طرح کی جلدی اور دیگر بیماریاں ہو جاتی ہیں، عورت ہی کے بل بوتے سرانجام پاتی ہیں۔ ان سب کے باجود بھی یہی طبقہ سب سے زیادہ پس ماندہ اور ہر طرح کے ظلم کا شکار ہے۔

                    سامراج نیولبرل ازم پالیسیوں کو ہماری معاشی بدحالی کے حل کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن درحقیقت یہی معاشی غارت گری کی اصل بنیاد ہے۔نوآبادیات سے لے کر آج تک ، زمین کے حقیقی کاشتکاروں کو زبردستی ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیااور ان جاگیرداروں کو مسلط کر کے سامراج کے تسلط اور اس کی حاکمیت کو قائم اور برقرار رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جس کا مقصد خوراک کے نظام پر قبضہ جما کر بین الاقوامی کمپنیوں کے منافع کے حصول کو یقینی بنایا ہے۔

منافع خور اور منافع کے ہوس میں کسی بھی حدتک جانے والا یہ سامراجی پیداواری نظام جو کہ رکازی ایندھن (فوسل فیول) کے زور پر کھڑا ہواہے، موسمی بحران کا ذمہ دار ہے۔ لیکن سامراجی طاقیتں غیرپائیدار پیداوار اور کھپت کو منافع کی لالچ میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جس کا خمیازہ کسان مزدور بالخصوص کسان مزدور عورتون کو اپنی زمین گھر، کھیت، فصلوں اور مال مایشیوں کے نقصانات کی شکل میں بھگتنا پڑرہا ہے۔ نہ صرف موسمی بحران اور اس کے نتیجے میں ہونے والی  تباہی ، بلکہ قرضوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی تعلق ہم مزدور اور کسان عوام سے نہیں ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی جانب سے سونپی پالیسیاں (خاص طور پر   ملکی اشرافیہ کے، لیے گئے قرضہ جات کی فراہمی کے عوض اور اس قرضہ کوواپس کرنے کی حکمت عملی کے طور پر ، اخراجات کی کمی کے نام پر دی جانی والی سبسڈیاں اور ملکی آمدنی بڑھانے کے نام پر محصولات میں بے تحاشہ اضافہ) عوام کو بھوک و افلاس، غربت میں دھکیلنے اورزرعی پیداوار کے نظام کو مزید مفلوج کر رہی ہیں۔

                    پاکستان کسان مزدور تحریک حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اناج کی برآمد کے لیے ملکی زمین کو لیز پر دینے کے بجائے سرمایہ دار سامراجی ممالک کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان کے ہر بے جابات تسلیم کرنے کے بجائے قرضوں کو منسوخی کے ساتھ ساتھ ہر اس پالیسی کو ماننے سے انکار کردیں جو اس ملک کی عوام خاص طورپر دیہی آبادیوں، کسان مزدور عورتوں کے مفاد کے خلاف ہو۔ پی کے ایم ٹی یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ کسانوں ، خاص  طور پر زرعی مزدور عورتوں میں زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم ، محفوظ اور غذائیت سے بھر پور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ مختصر یہ کہ ہم ایک ایسی پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں جو خوراک کی خود مختاری ، موسمی انصاف، معاشی اور سماجی انصاف اور عوامی احتساب کی حامل ہو۔

دیہی کسان مزدور عورت مطالبہ کرتی ہے: خوراک کی خودمختاری کا، زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کا، موسمی انصاف کا؛

دیہی کسان مزدور عورت رد کرتی ہے: پدرشاہی نظام کا ، جاگیرداری نظام کا، سرمایہ داری نظام کا، سامراجیت کا۔ عالمیگریت اور نیولبرل ازم کی بنیاد پر بنائے جانے والی ہر پالیسی کا، ان پالیسیوں کو بنانے اور زبردستی لاگو کرنے والے ہر ملکی ، غیرملکی ، قومی، کثیرالقومی اور بین الاقوامی ادارے کا اور ساتھ ہی ساتھ بغاوت اور نجات کا اعلان کرتی ہے۔

جاری کردہ: پاکستان کسان مزدور تحریک

Press Release Rural Women Day 2023 English

PKMT Criticizes Government Policies amid Rising Poverty and Economic Hardships

By Adeel Alvi | Regional Times of Sindh | September 6, 2023

Shikarpur: The Pakistan Kissan Mazdoor Tehreek (PKMT) staged a protest demonstration in Shikarpur on Tuesday, decrying the prevalent inflation and dire economic conditions in the country. Speaking at the event, PKMT leaders Hakim Gul and others vehemently criticized the policies of the current government. They highlighted the worsening poverty and unemployment crisis gripping the nation.

The PKMT leader expressed deep concern over the influence exerted by international financial institutions like the IMF, asserting that their policies have resulted in severe hardships, particularly for rural and working-class communities. Soaring prices of essential commodities, including electricity, petroleum gas and food items, have placed immense burdens on the common people, particularly those from rural and working-class backgrounds. Factory closures have led to widespread joblessness, further exacerbating economic difficulties, rising poverty, and inflation.

Amid this backdrop, the speakers underscored the intensification of the feudal system and exploitation of rural and working-class women, contributing to economic hardships, bonded labor, food scarcity, and poverty. Persistent power outages and energy shortages have become unbearable for the populace.

Furthermore, the speakers criticized the misuse of national resources, including free electricity, gas, and unauthorized expenditures, which have placed undue financial burdens on the hard-working citizens of Pakistan.

The PKMT leaders emphasized that the combination of poverty, unemployment, and inflation has significantly disrupted the lives of ordinary citizens. The soaring price of essential goods, especially electricity, gas and petroleum, have disproportionately affected the working class population. They asserted that the current government’s economic and social policies have exacerbated societal issues and crime.

To address this crisis, the speakers called for immediate and decisive action. The urged the state to implement fair and equitable distribution of land and resources among rural and working-class populations. They also called for urgent tax reforms to ensure that wealthy landowners and multinational corporations pay their fair share of taxes.

The PKMT demanded that the government prioritize the interests of the working class and rural citizens and take concrete steps to alleviate their economic hardships.

https://regionaltimes.com/singlepaper

پریس ریلیز | سامراجی معاشی استحصال؛ غربت، مہنگائی، بیروزگاری، عدم تحفظ

پریس ریلیز  4 ستمبر 2023
پاکستان کسان مزدور تحریک ملک کی حالیہ معاشی بدحالی پر سراپا احتجاج ہے۔ پاکستان کسان مزدور تحریک کے
چھوٹے اور بے زمین کسان ممبران آج 4 ستمبر، 2023 کو یومِ احتجاج مناتے ہوئے پورے ملک میں اپنی احتجاجی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں شکارپور، خیرپور، گھوٹکی، ہری پور، دیر، مانسہرہ، ساہیوال اور راجن پور میں احتجاجی مظاہرے اور پشاور، ملتان اور کراچی میں پریس کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملک کے دیگر اضلاع میں احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا ہے۔
ہم اس ملک کے چھوٹے اور بے زمین کسان و مزدور عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی نظام کی پالیسیوں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ڈبلیو ٹی او، کوڈیکس ایلیمنٹریس، ایس پی ایس کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمارے محنت کش خاص کر چھوٹے اور بے زمین کسان اور صنعتی مزدور شدید بھوک، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ آج کسان کھیتی باڑی کو چھوڑنے پر مجبور ہوچکا ہے، کارخانے بند ہو رہے ہیں اور مزدوروں کی بہت بڑی تعداد بے روزگاری سے دوچار ہوچکی ہے۔ ان حالات میں پدر شاہی نظام کے اثر تلے کسان و مزدور عورت پر معاشی بدحالی، بھوک، غذائی کمی اور غربت کے ساتھ ساتھ سماجی بربریت و استحصال دوہرا ہو گیا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجے میں حالیہ سامراجی اور سرمایہ دارانہ غلبہ ملک میں بجلی، تیل، گیس اور کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں اور محنت کش طبقہ کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔ بھوک، افلاس، غربت اور بے روزگاری نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے جبکہ دوسری جانب اس ملک کی اشرافیہ ریاستی مراعات کے نام پر مفت بجلی، تیل، گیس اور اربوں روپے کے ناجائز اخراجات کا بوجھ قومی خزانے پر ڈال رہی ہے، جس کا خمیازہ محنت کش عوام اپنا پیٹ کاٹ کر بھوک اور ننگ کی صورت میں ادا کر رہا ہے۔ ہم حکومت کی موجودہ معاشی بدحالی کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے بلوں کے نرخوں کو صراحاً مسترد کرتے ہیں اور ان بلوں کی ادائیگی کے لیے بھونڈے، غیر تسلی بخش اور کھوکھلی تجاویز کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ عوامی ضروریات پر ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ہم حکومت سے 50 ایکڑ سے زائد زمین کی ملکیت والے زمینداروں اور جاگیرداروں پر زرعی ٹیکس کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Continue reading

بچاؤ دیہی انمول اثاثے؛ مہم برائے مال مویشی و دودھ

پریس ریلیز  22 جون 2023
پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) نے 8 مارچ،  2023 کو ساہیوال میں ”بچاؤ دیہی انمول اثاثے: دودھ اور مال مویشی شعبہ کے کارپوریٹ قبضے کے خلاف مہم“ کا آغاز کیا تھا۔ پی کے ایم ٹی کے مطابق دودھ اور مال مویشی کے شعبے میں کمپنیوں کے غلبہ کو ممکن بنانے کے لیے خالص خوراک کے قوانین کے نفاذ کو ہتھیار کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مختلف صوبوں بالخصوص پنجاب کی پیور فوڈ اتھارٹیز بظاہر اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ خالص قدرتی کھلا دودھ آلودہ ہے، لہذا کسان سمیت دودھ کی تمام تجارتی پیداوار اور فروخت کرنے والے اداروں کو پنجاب فوڈ ریگولیشنز 2018 کم از کم پیسچرائزیشن گائیڈ لائنز اور اسٹینڈرڈز پر عمل کرنا ہوگا اور پیور فوڈ اتھارٹی میں اپنا اندراج کرانا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور ہم دودھ کی پیداوار میں تقریباً خود مختار ہیں۔ اگرچہ کسانوں کی اکثریت کے پاس زمین نہیں ہے، لیکن ان کے پاس مویشی ہیں اور مویشیوں کی پیداوار و فروخت کے ساتھ ساتھ دودھ اور دودھ سے تیار کردہ دیگر مصنوعات پر بھی کافی حد تک اختیار ہے۔ دیہی علاقوں میں 80 فیصد دودھ چھوٹے پیمانے پر پیدا ہوتا ہے اور 97 فیصد دودھ تازہ کھلے اور بقیہ صرف تین فیصد ڈبہ بند شکل میں منڈی میں بکتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے کہ جس کے پیچھے عالمی تجارتی ادارہ (ڈبلیو ٹی او) کی ایماء پر خالص خوراک کے قوانین کو کسانوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔
دودھ اور مال مویشی کے شعبے کے تناظر میں امریکہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور دیگر سرمایہ دار صنعتی ممالک کی طاقتور حکومتیں اپنی زرعی پالیسیوں مثلاً یورپی یونین (ای یو) کی (سی اے پی) اور یو ایس فارم بل پالیسی کے ذریعے اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر اور یورو کی امداد فراہم کرتی ہیں۔ 2023-2027 کی سی اے پی پالیسی میں، یورپی یونین نے اپنے کسانوں کے لیے 307 بلین یورو کی مدد فراہم کی ہے۔ اسی طرح فارم بل 2018-2023 کے ذریعہ امریکہ اپنے کسانوں کو 428 ارب ڈالر کی مدد فراہم کررہا ہے۔ دودھ کے شعبہ کے لیے خصوصی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے تاکہ دودھ کی اضافی پیداوار) کے لیے اسٹوریج اور اضافی ڈیری مصنوعات کو سرکاری سطح پر خریدنے کے لیے مراعات دی جاتی ہے۔ چونکہ کھپت پیداوار سے کم ہے لہذا کمپنیاں دودھ کو خشک دودھ یا اسکیمڈ دودھ میں تبدیل کرتی ہیں اور پھر ان مصنوعات کے لیے منڈی ڈھونڈتی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا کی کمپنیاں گائے اور بھینس کی بوائن جینیات (زیادہ پیداوار والے مویشیوں کی افزائش) میں بھی مہارت رکھتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے زندہ مویشیوں کے لیے بھی منڈیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دودھ کی صنعتی طرز پیداوار ماحول کے لیے تباہ کن ہے اور گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ اس لیے پی کے ایم ٹی ہمارے دیہی اثاثوں پر سامراجی کارپوریٹ قبضے کی شدید مخالفت کرتی ہے۔
انہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کہنے پر ڈبلیو ٹی او اور دیگر سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جاتے ہیں تاکہ پاکستان جیسے ممالک کی دودھ اور مال مویشی منڈیوں پر قبضہ کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر ورلڈ بینک کے ماتحت ادارے انٹرنیشنل فنانشل کارپوریشن نے نیدر لینڈ کی دودھ کی سب سے بڑی کمپنی فریز لینڈ کیمپینا کو 145 ملین ڈالر فراہم کیے تاکہ پاکستان کی سب سے بڑی دودھ کی کمپنی اینگرو فوڈز کا 51 فیصد حصص حاصل کرکے پاکستانی ڈیری انڈسٹری پر اجارہ داری قائم کی جاسکے۔
نیسلے اور اس جیسی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہماری منڈیوں پر قابض ہونے کے لیے دودھ کی پیداوار اور منڈیوں پر چھوٹے کسانوں کا اختیار ختم کرنا ہوگا۔ ڈبلیو ٹی او کے معاہدے مثلاً اے او اے، ٹرپس، ایس پی ایس اور ٹی بی ٹی کا مقصد پاکستان جیسے ممالک کی منڈیوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
دودھ اور مال مویشی شعبہ پر کارپوریٹ کنٹرول کے خلاف پی کے ایم ٹی کی سہماہی مہم کی اختتامی تقریب آج 22 جون کو منعقد ہوئی، جس دن ایک بہادر کسان عورت مائی بختاور کو اپنی برادری کی اناج کے قبضے کے خلاف مزاہمت کرتے ہوئے جاگیرداروں نے قتل کردیا تھا۔ مہم کی اختتامی تقریب میں ہم اپنے دودھ اور مال مویشی شعبہ پر کمپنیوں کے قبضے کے خلاف لڑنے اور زرعی زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کے لیے عزم کا اعیادہ کرتے ہیں۔ پمفلٹ تقسیم کے ذریعے ہم چاروں صوبوں کے 57 اضلاع اور اسلام آباد میں پانچ لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں کو خالص خوراک کے قوانین کے مذموم مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔ متعدد ٹی وی ٹاک شوز میں حصہ لیا، ریڈیو پروگرام کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا۔
ہمارا مقصد ملک کے کونے کونے تک پہنچ کر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ اور دودھ سے بنے دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کا مطالبہ کرنا ہے، ہماری دیہی آبادیوں کی اکثریت اس شعبہ سے اپنا روزگار حاصل کرتی ہے۔ معاشی طور پر پاکستان پہلے ہی 126.3 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 337 کھرب روپے) کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس قرض کے بوجھ تلے عوام فاقوں پر مجبور ہے، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی پیداواری صنعت کو پائیدار اور مضبوط بنیاد پر کھڑا کریں خصوصاً اپنے قیمتی ماحولیات سے ہم آہنگ زرعی، مال مویشی اور دودھ کی پیداواری نظام کا ناصرف تحفظ کریں بلکہ اس کو بڑھائیں۔ تاکہ وقت کی ضرورت کے تحت سامراجی تسلط
اور ماحولیاتی تباہی سے اپنا بچاؤ کیا جاسکے۔
!۔ ڈبہ بند دودھ کا بائیکاٹ
!۔ دودھ اور مال مویشی شعبے پر کمپنیوں کا قبضہ نامنظور
!۔ کسان عورتوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں
!۔ چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں
۔ دودھ کی خود مختاری کے لیے کھڑے ہوں!۔زمین کے منصفانہ اور مساویانہ بٹوارے کے لیے کھڑے ہوں
!۔ موسمی انصاف کے لیے کھڑے ہوں
!۔ خوراک کی خودمختاری کے لیے کھڑے ہوں
جاری کردہ: پاکستان کسان مزدور تحریک