بچاؤ دیہی انمول اثاثے؛ مہم برائے مال مویشی و دودھ

پریس ریلیز  22 جون 2023
پاکستان کسان مزدور تحریک (پی کے ایم ٹی) نے 8 مارچ،  2023 کو ساہیوال میں ”بچاؤ دیہی انمول اثاثے: دودھ اور مال مویشی شعبہ کے کارپوریٹ قبضے کے خلاف مہم“ کا آغاز کیا تھا۔ پی کے ایم ٹی کے مطابق دودھ اور مال مویشی کے شعبے میں کمپنیوں کے غلبہ کو ممکن بنانے کے لیے خالص خوراک کے قوانین کے نفاذ کو ہتھیار کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ مختلف صوبوں بالخصوص پنجاب کی پیور فوڈ اتھارٹیز بظاہر اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ خالص قدرتی کھلا دودھ آلودہ ہے، لہذا کسان سمیت دودھ کی تمام تجارتی پیداوار اور فروخت کرنے والے اداروں کو پنجاب فوڈ ریگولیشنز 2018 کم از کم پیسچرائزیشن گائیڈ لائنز اور اسٹینڈرڈز پر عمل کرنا ہوگا اور پیور فوڈ اتھارٹی میں اپنا اندراج کرانا ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے اور ہم دودھ کی پیداوار میں تقریباً خود مختار ہیں۔ اگرچہ کسانوں کی اکثریت کے پاس زمین نہیں ہے، لیکن ان کے پاس مویشی ہیں اور مویشیوں کی پیداوار و فروخت کے ساتھ ساتھ دودھ اور دودھ سے تیار کردہ دیگر مصنوعات پر بھی کافی حد تک اختیار ہے۔ دیہی علاقوں میں 80 فیصد دودھ چھوٹے پیمانے پر پیدا ہوتا ہے اور 97 فیصد دودھ تازہ کھلے اور بقیہ صرف تین فیصد ڈبہ بند شکل میں منڈی میں بکتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے کہ جس کے پیچھے عالمی تجارتی ادارہ (ڈبلیو ٹی او) کی ایماء پر خالص خوراک کے قوانین کو کسانوں پر مسلط کیا جارہا ہے۔
دودھ اور مال مویشی کے شعبے کے تناظر میں امریکہ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا اور دیگر سرمایہ دار صنعتی ممالک کی طاقتور حکومتیں اپنی زرعی پالیسیوں مثلاً یورپی یونین (ای یو) کی (سی اے پی) اور یو ایس فارم بل پالیسی کے ذریعے اپنے کسانوں کو اربوں ڈالر اور یورو کی امداد فراہم کرتی ہیں۔ 2023-2027 کی سی اے پی پالیسی میں، یورپی یونین نے اپنے کسانوں کے لیے 307 بلین یورو کی مدد فراہم کی ہے۔ اسی طرح فارم بل 2018-2023 کے ذریعہ امریکہ اپنے کسانوں کو 428 ارب ڈالر کی مدد فراہم کررہا ہے۔ دودھ کے شعبہ کے لیے خصوصی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے تاکہ دودھ کی اضافی پیداوار) کے لیے اسٹوریج اور اضافی ڈیری مصنوعات کو سرکاری سطح پر خریدنے کے لیے مراعات دی جاتی ہے۔ چونکہ کھپت پیداوار سے کم ہے لہذا کمپنیاں دودھ کو خشک دودھ یا اسکیمڈ دودھ میں تبدیل کرتی ہیں اور پھر ان مصنوعات کے لیے منڈی ڈھونڈتی ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ، یورپی یونین اور آسٹریلیا کی کمپنیاں گائے اور بھینس کی بوائن جینیات (زیادہ پیداوار والے مویشیوں کی افزائش) میں بھی مہارت رکھتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے زندہ مویشیوں کے لیے بھی منڈیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دودھ کی صنعتی طرز پیداوار ماحول کے لیے تباہ کن ہے اور گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔ اس لیے پی کے ایم ٹی ہمارے دیہی اثاثوں پر سامراجی کارپوریٹ قبضے کی شدید مخالفت کرتی ہے۔
انہی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے کہنے پر ڈبلیو ٹی او اور دیگر سرمایہ کاری کے معاہدے کیے جاتے ہیں تاکہ پاکستان جیسے ممالک کی دودھ اور مال مویشی منڈیوں پر قبضہ کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر ورلڈ بینک کے ماتحت ادارے انٹرنیشنل فنانشل کارپوریشن نے نیدر لینڈ کی دودھ کی سب سے بڑی کمپنی فریز لینڈ کیمپینا کو 145 ملین ڈالر فراہم کیے تاکہ پاکستان کی سب سے بڑی دودھ کی کمپنی اینگرو فوڈز کا 51 فیصد حصص حاصل کرکے پاکستانی ڈیری انڈسٹری پر اجارہ داری قائم کی جاسکے۔
نیسلے اور اس جیسی دیگر بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ہماری منڈیوں پر قابض ہونے کے لیے دودھ کی پیداوار اور منڈیوں پر چھوٹے کسانوں کا اختیار ختم کرنا ہوگا۔ ڈبلیو ٹی او کے معاہدے مثلاً اے او اے، ٹرپس، ایس پی ایس اور ٹی بی ٹی کا مقصد پاکستان جیسے ممالک کی منڈیوں پر زبردستی قبضہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
دودھ اور مال مویشی شعبہ پر کارپوریٹ کنٹرول کے خلاف پی کے ایم ٹی کی سہماہی مہم کی اختتامی تقریب آج 22 جون کو منعقد ہوئی، جس دن ایک بہادر کسان عورت مائی بختاور کو اپنی برادری کی اناج کے قبضے کے خلاف مزاہمت کرتے ہوئے جاگیرداروں نے قتل کردیا تھا۔ مہم کی اختتامی تقریب میں ہم اپنے دودھ اور مال مویشی شعبہ پر کمپنیوں کے قبضے کے خلاف لڑنے اور زرعی زمین کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کے لیے عزم کا اعیادہ کرتے ہیں۔ پمفلٹ تقسیم کے ذریعے ہم چاروں صوبوں کے 57 اضلاع اور اسلام آباد میں پانچ لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں کو خالص خوراک کے قوانین کے مذموم مقاصد سے آگاہ کیا گیا۔ متعدد ٹی وی ٹاک شوز میں حصہ لیا، ریڈیو پروگرام کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا۔
ہمارا مقصد ملک کے کونے کونے تک پہنچ کر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈبہ بند دودھ اور دودھ سے بنے دیگر مصنوعات کا بائیکاٹ کا مطالبہ کرنا ہے، ہماری دیہی آبادیوں کی اکثریت اس شعبہ سے اپنا روزگار حاصل کرتی ہے۔ معاشی طور پر پاکستان پہلے ہی 126.3 بلین امریکی ڈالر (تقریباً 337 کھرب روپے) کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اس قرض کے بوجھ تلے عوام فاقوں پر مجبور ہے، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی پیداواری صنعت کو پائیدار اور مضبوط بنیاد پر کھڑا کریں خصوصاً اپنے قیمتی ماحولیات سے ہم آہنگ زرعی، مال مویشی اور دودھ کی پیداواری نظام کا ناصرف تحفظ کریں بلکہ اس کو بڑھائیں۔ تاکہ وقت کی ضرورت کے تحت سامراجی تسلط
اور ماحولیاتی تباہی سے اپنا بچاؤ کیا جاسکے۔
!۔ ڈبہ بند دودھ کا بائیکاٹ
!۔ دودھ اور مال مویشی شعبے پر کمپنیوں کا قبضہ نامنظور
!۔ کسان عورتوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں
!۔ چھوٹے اور بے زمین کسانوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہوں
۔ دودھ کی خود مختاری کے لیے کھڑے ہوں!۔زمین کے منصفانہ اور مساویانہ بٹوارے کے لیے کھڑے ہوں
!۔ موسمی انصاف کے لیے کھڑے ہوں
!۔ خوراک کی خودمختاری کے لیے کھڑے ہوں
جاری کردہ: پاکستان کسان مزدور تحریک

#SaveOurInvaluableRuralAssets | Role Of Women In livestock And Dairy Production In Pakistan? | Agri Business |

Watch the full episode of Agri Business on June 3, 2023, a Tv program on Rohi Tv as part of our Save Our Invaluable Rural Assets campaign against corporate control on Pakistan’s dairy and Livestock Sector. #SaveOurInvaluableRuralAssets

 

#SaveOurInvaluableRuralAssets زراعت کے شعبے میں مال مویشی کی اہمیت کیا ہے؟؟ | Agri Business l

مہم برائے مال مویشی دودھ : بچاؤ دیہی انمول اثاثے – پمفلٹ

پاکستان کسان مزدور تحریک کا تیار کردہ پمفلٹ تلاش کریں۔سندھ اور پنجاب کے 15 اضلاع میں تقریباً ایک لاکھ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ پی کے ایم ٹی کے ممبران عوامی مقامات پر تقسیم کر رہے ہیں اس کا مقصد پورے ملک میں پانچ لاکھ پمفلٹ تقسیم کرنا ہے۔

#SaveOurInvaluableRuralAssets

 

بچاؤ دیہی انمول اثاثے؛ مہم برائے مال مویشی و دودھ

پریس ریلیز| 8 مارچ 2023

پاکستان کسان مزدور تحریک نے مزدور عورتوں کے عالمی دن 8 مارچ، 2023 کو ”بچاؤ دیہی انمول اثاثے؛ مہم برائے مال مویشی و دودھ“ کا آغاز کیا ہے۔ اس مہم کا مقصد حکومت کے تازہ قدرتی کھلے دودھ پر مکمل پابندی کے قانون، دودھ اور مال مویشی کے شعبے میں بڑھتی ہوئی آزاد تجارتی پالیسیوں اور اس شعبہ پر ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں کے قبضے کے خلاف کسان و عوام کو خبردار کرتے ہوئے اپنے خوراک و روزگار اور ماحول کے بچاؤ کے لیے عوام کو متحرک کرنا ہے۔


پنجاب اور سندھ فوڈ اتھارٹیوں نے دودھ کے شعبہ میں بڑھ چڑھ کر قانون سازی شروع کی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب اور سندھ فوڈ اتھارٹی نے 2018 میں پیور فوڈ قانونی ضابطے (ریگیولیشنز) جاری کیے ہیں۔جس کے فوری اطلاق کے لیے اب پنجاب حکومت لاہور اور اس کے بعد پورے پنجاب میں تازہ قدرتی کھلے دودھ پر مکمل پابندی کے لیے بار بار اعلانات کررہی ہے۔ ان قانونی ضابطوں کے تحت تازہ قدرتی کھلے دودھ کو پیسچورائز کرنے کے بعد ہی فروخت کیا جاسکتا ہے۔ وہ کاروبار جو کہ دودھ اور دودھ سے بنائی جانے والی دیگر اشیاء کو تیار کررہے ہیں ان سب کو حکومت سے فروخت کا لائسنس لینا ہوگا۔

   

اس قانون کے پیچھے کونسے طاقت ور گروہوں کا ہاتھ ہے؟ یہ قوانین عالمی تجارتی ادارہ ڈبلیو ٹی او کے تحت سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری معاہدہ اور ٹیکنیکل بیریئرز ٹو ٹریڈ کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں۔ ان قوانین کو دراصل بڑی بڑی دیو ہیکل دودھ اور مال مویشی کے سرمایہ دار اور سرمایہ کار کمپنیوں کی ایما پر کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر دودھ اور دودھ سے تیار کردہ مکھن، پنیر، ملائی اور دیگر مصنوعات یہی اجارہ دار کمپنیاں تیار اور فروخت کرتی ہیں اور بے تحاشہ منافع کماتی ہیں۔ ان کے بالمقابل چھوٹے اور بے زمین کسان گھرانے ہیں جن میں خاص کر اس شعبے سے منسلک مزدور کسان عورت کی سخت محنت ہمارے پورے ملک کو دودھ اور گوشت جیسی انمول غذا فراہم کرتے ہیں۔ دراصل اجارہ دار کمپنیاں ان ہی لاکھوں گھرانوں کی روزی اور خوراک پر ڈاکہ ڈال رہی ہیں۔ دیہی کسان مزدور عورت کا زراعت بالخصوص مال مویشی اور دودھ کی پیداوار میں کلیدی کردار کی وجہ سے ہی اس مہم کا آغاز مزدور عورتوں کے عالمی دن 8 مارچ سے کیا جارہا ہے۔ Continue reading

بھوک کا عالمی دن 2022: خوراک کی خود مختاری اور موسمیاتی انصاف کی جدوجہد

پریس ریلیز 16 اکتوبر 2022

زراعت اور خوراک کا عالمی ادارہ فاؤ دنیا کی اشرافیہ کے ساتھ ملکر آج خوراک کا عالمی دن منا رہی ہے جبکہ چھوٹے اور بے زمین کسانوں، شہری اور دیہی مزدوروں اور عوام کے لیے یہ بھوک کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں بھوک اور قحط کی موجودہ صورتحال عالمگیریت کے بھیانک چہرے کی عکاسی کرتا ہے۔

عالمی سطح پر بھوک کے اعداد و شمار ایک بار پھر بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ 2021 میں، دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب 30 کروڑ افراد غذائی کمی اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور تقریباً 83 کروڑ افراد بھوک کا شکار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2022 میں 82 ممالک شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جس سے 34 کروڑ 50 لاکھ افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

اس بھوک کو مزید ہوا سامراج کا پیدا کردہ موسمی بحران دے رہا ہے۔ صرف پاکستان میں حالیہ مون سون کی شدید بارشوں کے نتیجے میں 80 لاکھ ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں مال مویشی، بڑی تعداد میں گندم کا ذخیرہ اور جانوروں کا ذخیرہ شدہ چارہ 8 ہفتوں کے دوران ہونے والی مسلسل بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ضائع ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ ادارہ برائے انسانی فلاح نے عندیہ دیا ہے کہ تقریباً 57 لاکھ سیلاب زدگان کو اگلے تین ماہ میں خوراک کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق حالیہ سیلاب سے پہلے بھی 16 فیصد آبادی کم یا شدید غذائی کمی اور عدم تحفظ کا شکار تھی۔ Continue reading